ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – دفعہ 59A، 154 اور 431A کی مکمل وضاحت

ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – دفعہ 59A، 154 اور 431A کی مکمل وضاحت

 

ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – دفعہ 59A، 154 اور 431A کی مکمل وضاحت

ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – ملزم کے حقوق میں بڑی پیش رفت

پاکستان میں فوجداری نظامِ انصاف کو بہتر بنانے کے لیے حال ہی میں ضابطہ فوجداری 1898 (Code of Criminal Procedure, 1898) میں چند اہم ترامیم کی گئی ہیں، جو خاص طور پر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں نافذ کی گئی ہیں۔ یہ ترامیم ملزم کے بنیادی حقوق کے تحفظ، ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار میں بہتری، اور سزا یافتہ شخص کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء کو اپیل کا حق دینے سے متعلق ہیں۔

یہ ترامیم خوش آئند اس لیے ہیں کہ یہ نہ صرف قانونی خلا کو پُر کرتی ہیں بلکہ شہریوں کو مزید قانونی تحفظ بھی فراہم کرتی ہیں۔

آئیے تینوں ترامیم کو سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔


1۔ دفعہ 59-اے (Section 59A) – گرفتاری کی اطلاع دینے کا حق

📌 کیا نیا اضافہ ہوا؟

ضابطہ فوجداری میں نئی دفعہ 59A شامل کی گئی ہے جس کے مطابق:

جب کسی شخص کو گرفتار کیا جائے گا اور وہ پولیس اسٹیشن یا کسی اور جگہ زیرِ حراست ہوگا تو اسے یہ حق حاصل ہوگا کہ اس کے کسی بھائی، دوست، رشتہ دار یا کسی ایسے شخص کو جسے وہ مناسب سمجھے، اس کی گرفتاری کی اطلاع دی جائے۔

یہ اطلاع پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر کی ذمہ داری ہوگی۔

📌 اس ترمیم کی اہمیت

پاکستان میں اکثر شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ:

  • لوگوں کو غیر رسمی طور پر حراست میں رکھا جاتا ہے

  • گھر والوں کو اطلاع نہیں دی جاتی

  • ملزم کئی دنوں تک "لاپتہ" رہتا ہے

یہ نئی ترمیم ان مسائل کا قانونی حل پیش کرتی ہے۔

📌 کیا اس میں کوئی استثناء بھی ہے؟

جی ہاں۔ اگر پولیس افسر (کم از کم ایس پی رینک کا افسر) یہ سمجھے کہ اطلاع دینے سے:

  • شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہے

  • کسی دوسرے شخص کو خطرہ ہو سکتا ہے

  • شریک ملزمان کو اطلاع مل جائے گی

  • مالِ مسروقہ کی برآمدگی متاثر ہو سکتی ہے

تو وہ محدود مدت کے لیے اطلاع میں تاخیر کی اجازت دے سکتا ہے۔

✅ نتیجہ

یہ ترمیم غیر قانونی گرفتاریوں اور خفیہ حراست کے خلاف ایک مضبوط قدم ہے اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10 کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔


2۔ دفعہ 154 میں ترمیم – مجسٹریٹ کو بھی ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار

📌 پہلے کیا طریقہ کار تھا؟

اگر پولیس کسی شہری کی درخواست پر ایف آئی آر درج نہ کرے تو متاثرہ شخص کو:

  • جسٹس آف پیس (Justice of Peace)
    یعنی عموماً سیشن جج کے پاس درخواست دینا پڑتی تھی۔

اس سے سیشن کورٹس پر غیر ضروری بوجھ بڑھ رہا تھا۔

📌 اب کیا نیا اختیار دیا گیا ہے؟

دفعہ 154 میں ترمیم کے ذریعے اب:

متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے کہ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو وہ اسے وصول کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

یعنی اب ایک اضافی فورم مہیا کر دیا گیا ہے۔

📌 اس کے فوائد

  • سیشن کورٹ پر بوجھ کم ہوگا

  • شہری کو فوری اور قریبی فورم میسر ہوگا

  • انصاف کے حصول میں تاخیر کم ہوگی

  • پولیس کی جوابدہی میں اضافہ ہوگا

✅ نتیجہ

یہ ترمیم عوام کو زیادہ مؤثر قانونی راستہ فراہم کرتی ہے اور ایف آئی آر کے اندراج کے عمل کو مزید شفاف بناتی ہے۔


3۔ دفعہ 431-اے (Section 431A) – سزا یافتہ شخص کے ورثاء کا حقِ اپیل

📌 مسئلہ کیا تھا؟

اگر کسی شخص کو سزا ہو جائے اور وہ اپیل دائر کرنے سے پہلے یا اپیل کے دوران فوت ہو جائے تو:

  • اپیل ختم (Abate) ہو جاتی تھی

  • اس کے ورثاء کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا

  • سزا کا داغ (Stigma) برقرار رہتا تھا

📌 نئی ترمیم کیا کہتی ہے؟

دفعہ 431A شامل کی گئی ہے جس کے مطابق:

اگر سزا یافتہ شخص فوت ہو جائے تو اس کے قانونی ورثاء اس کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں، اور وہ اپیل اسی طرح سنی جائے گی جیسے خود ملزم نے دائر کی ہو۔

اسی طرح دفعہ 431 میں بھی ترمیم کی گئی ہے کہ اگر اپیل زیرِ التواء ہو اور اپیل کنندہ فوت ہو جائے تو 30 دن کے اندر اس کے قانونی وارث عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

📌 اس ترمیم کی اہمیت

  • خاندان کی عزت اور ناموس کا تحفظ

  • عدالتی انصاف کا تسلسل

  • غلط سزا کی صورت میں بعد از مرگ بریت کا امکان

یہ ایک انتہائی اہم اور انسان دوست ترمیم ہے۔

✅ نتیجہ

اب اگر کسی شخص کو غلط سزا ہو جائے اور وہ انتقال کر جائے تو اس کے ورثاء قانونی جنگ جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ اس کے نام سے مجرمانہ داغ ختم ہو سکے۔


مجموعی تجزیہ

ان تینوں ترامیم کا مقصد:

  • ملزم کے بنیادی حقوق کا تحفظ

  • پولیس کے اختیارات میں توازن

  • عدالتی نظام پر بوجھ کم کرنا

  • ورثاء کو انصاف کا حق دینا

یہ اصلاحات فوجداری نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور انسانی بنانے کی سمت اہم قدم ہیں۔


وکلاء اور عام شہریوں کے لیے عملی مشورہ

✔ اگر کسی کو گرفتار کیا جائے تو فوراً دفعہ 59A کا حوالہ دیں۔
✔ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو متعلقہ مجسٹریٹ سے رجوع کریں۔
✔ اگر سزا یافتہ شخص انتقال کر جائے تو 431A کے تحت اپیل کے حق کو ذہن میں رکھیں۔


اگر آپ کو یہ معلومات مفید لگیں تو اس آرٹیکل کو ضرور شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے قانونی حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔

📌 مزید قانونی رہنمائی کے لیے وزٹ کریں:
Basic Pakistani Laws in Urdu
https://basicpakistanilaws.blogspot.com/

اللہ ہمیں قانون کو سمجھنے اور انصاف کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – ملزم کے حقوق میں بڑی پیش رفت

ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم ترامیم 2023 – ملزم کے حقوق میں بڑی پیش رفت


Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form