پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم اور 'منحرف بیانات' (Resiling Statements) کا المیہ
پاکستان میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے سنگین جرائم (جیسے کہ جنسی تشدد یا اغوا) ایک بڑا معاشرتی ناسور بن چکے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اکثر صورتوں میں ملزمان قانون کے شکنجے سے صاف بچ نکلتے ہیں۔ اس بریت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ مدعی یا متاثرہ بچے کے والدین کا اپنے پہلے بیان سے پھر جانا (Resiling Statement) ہے۔
منحرف بیان (Resiling Statement) کیا ہے؟
قانونی اصطلاح میں جب کوئی مدعی یا گواہ عدالت میں آ کر اپنے اس بیان سے مکر جائے جو اس نے ایف آئی آر (FIR) یا پولیس تفتیش کے دوران دیا تھا، تو اسے Resiling Statement کہا جاتا ہے۔
ایسے مقدمات میں، جو قانوناً ناقابلِ صلح (Non-Compoundable) ہوتے ہیں، ملزمان کے بچاؤ کا واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ مدعی کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ عدالت میں حلفیہ بیان دے کر کیس کو ختم کر دے۔
عدالت میں دیے جانے والے حلفیہ بیانات کی نوعیت
عموماً عدالتوں میں مدعی کی جانب سے درج ذیل تین طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں:
غلط شناخت کا عذر: "میں نے ملزمان کے متعلق تسلی کر لی ہے، یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے جرم کیا۔"
غلط فہمی کا دعویٰ: "میں نے مذکورہ ملزمان کے نام محض غلط فہمی یا اشتعال کی بنیاد پر درج کروائے تھے۔"
کارروائی سے دستبرداری: "مجھے ملزمان کی بریت یا ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے، میں مزید قانونی چارہ جوئی نہیں کرنا چاہتا۔"
مدعی بیانات سے کیوں منحرف ہوتا ہے؟
عملی طور پر والدین یا سرپرستوں کو ان بیانات پر مجبور کرنے کے پیچھے کئی تلخ حقائق چھپے ہوتے ہیں:
مالی مفاہمت (Blood Money): غریب والدین کو بھاری رقم دے کر 'خرید' لیا جاتا ہے۔
سماجی و سیاسی دباؤ: بااثر ملزمان خاندان کو ڈرا دھمکا کر یا برادری کے دباؤ کے ذریعے صلح پر مجبور کرتے ہیں۔
طویل عدالتی عمل: برسوں پر محیط قانونی جنگ اور وکیلوں کی فیسیں غریب والدین کی ہمت توڑ دیتی ہیں۔
بدنامی کا خوف: معاشرے میں متاثرہ بچے اور خاندان کی ساکھ بچانے کے لیے خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ اور اس کے اثرات
جب مدعی خود ہی اپنے الزام سے دستبردار ہو جاتا ہے، تو استغاثہ (Prosecution) کا مقدمہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔
قانونی اصول: عدالتیں شواہد اور گواہیوں پر فیصلہ کرتی ہیں۔ جب مرکزی گواہ (والدین) ہی منحرف ہو جائیں، تو عدالت "شک کا فائدہ" (Benefit of Doubt) دیتے ہوئے ملزم کو رہا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرم آزاد ہو کر دوبارہ معاشرے میں گھومتے ہیں اور نئے شکار ڈھونڈتے ہیں، جبکہ ریاست کا انصاف فراہم کرنے والا ڈھانچہ بے بس نظر آتا ہے۔
اس صورتحال کا حل کیا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ معصوم بچوں کو انصاف ملے، تو ہمیں درج ذیل اقدامات کی ضرورت ہے:
ریاست کی مدعیت: سنگین جرائم میں ریاست کو خود مدعی بننا چاہیے تاکہ والدین کے منحرف ہونے سے کیس ختم نہ ہو۔
گواہوں کا تحفظ: گواہوں کے تحفظ (Witness Protection) کے پروگرام کو فعال بنایا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے بیان دے سکیں۔
فوری ٹرائل: مقدمات کا فیصلہ مہینوں میں ہونا چاہیے نہ کہ برسوں میں، تاکہ مدعی کی ہمت نہ ٹوٹے۔
اختتامی نوٹ: بچوں کے خلاف جرائم محض ایک خاندان نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ اگر ہم 'حلفیہ بیانات' کے پیچھے چھپی مصلحتوں کو ختم نہ کر سکے، تو مجرموں کی بریت کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
مزید پڑھیں: