سپریم کورٹ کا فیصلہ 2026 SCMR | دعویٰ تعمیل مختص کیوں خارج ہوا؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ 2026 SCMR | دعویٰ تعمیل مختص کیوں خارج ہوا؟

 supreme-court-specific-performance-property-case-2026-scmr


معاہدہ بیع میں بقیہ رقم وقت پر ادا نہ کرنا: سپریم کورٹ نے دعویٰ تعمیل مختص کیوں خارج کیا؟ | 2026 SCMR

سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ: Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed — 2026 SCMR

پاکستان میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے معاہدوں میں اکثر ایسے تنازعات سامنے آتے ہیں جن میں خریدار مقررہ مدت کے اندر بقیہ زرِ ثمن ادا نہیں کرتا، لیکن بعد ازاں عدالت سے دعویٰ تعمیل مختص (Suit for Specific Performance) کی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed کے مقدمے میں واضح کیا کہ محض یہ زبانی دعویٰ کرنا کہ خریدار معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار اور رضامند تھا، کافی نہیں۔ خریدار کو اپنی آمادگی اور رضامندی کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے، خصوصاً جب معاہدے میں بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے واضح اور حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہو۔

کیس کی تفصیلات

  • مقدمہ: Muhammad Imran v. Ishfaq Ahmed

  • رپورٹڈ حوالہ: 2026 SCMR

  • مقدمات: C.P. Nos. 3649, 3650 and 3639 of 2025

  • فیصلہ تحریر کرنے والے جج: جسٹس شاہد بلال حسن

  • بنیادی قانونی مسئلہ: بقیہ رقم کی بروقت ادائیگی، آمادگی و رضامندی، اور دعویٰ تعمیل مختص کے قانونی تقاضے۔

نوٹ: مقدمے کے مکمل مستند فیصلے سے رپورٹڈ حوالہ، فریقین کے ناموں اور متعلقہ پیراگراف کی تصدیق اشاعت سے پہلے کر لیں۔

1۔ مقدمے کا پس منظر: تنازع کیسے شروع ہوا؟

فریقین کے درمیان غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کے دو معاہدے مورخہ 16 اپریل 2014 اور 3 جون 2016 کو طے پائے۔ ان معاہدوں میں واضح طور پر درج تھا کہ بقیہ زرِ ثمن 15 جنوری 2017 تک ہر صورت ادا کیا جائے گا۔

تاہم، خریدار مقررہ تاریخ تک بقیہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہا۔

اس صورتِ حال میں جائیداد کے مالک نے معاہدوں کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس کے جواب میں خریدار نے دعویٰ تعمیل مختص دائر کر دیا، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ فروخت کنندہ کو معاہدے کے مطابق جائیداد منتقل کرنے کا پابند کیا جائے۔

ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے خریدار کے حق میں فیصلہ دیا، جبکہ مالک کا دعویٰ منسوخی خارج کر دیا گیا۔

بعد ازاں، جائیداد کے مالک نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے ریکارڈ اور متعلقہ قانونی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

2۔ آمادگی اور رضامندی: صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں

تعمیل مختص کے مقدمات میں ایک بنیادی قانونی سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا خریدار واقعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار اور رضامند تھا یا نہیں۔

قانونی اصطلاح میں اسے Readiness and Willingness کہا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس اصول پر زور دیا کہ خریدار کی آمادگی محض دعوے یا زبانی بیان سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا جائزہ ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

مثلاً:

  • بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے پے آرڈر یا بینک ڈرافٹ تیار کروانا۔

  • متعلقہ رقم کا بینک اکاؤنٹ میں موجود ہونا اور اس کے استعمال کے لیے دستیاب ہونے کا ثبوت۔

  • بینک اسٹیٹمنٹ یا دیگر مالیاتی دستاویزات کے ذریعے ادائیگی کی استطاعت ظاہر کرنا۔

  • معاہدے کی مقررہ تاریخ پر رقم ادا کرنے کی حقیقی کوشش کا ثبوت۔

  • مقدمہ دائر کرتے وقت بقیہ رقم عدالت میں جمع کروانے کی پیشکش یا، جہاں مناسب ہو، رقم جمع کروانا۔

یہ مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ عدالت خریدار کے محض الفاظ کے بجائے اس کے عملی طرزِ عمل اور مالی تیاری کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اہم قانونی نکتہ: عدالت میں رقم جمع کروانا ہر مقدمے میں بذاتِ خود واحد قانونی معیار نہیں، لیکن جہاں خریدار کی بروقت آمادگی متنازع ہو، وہاں رقم کی عدم دستیابی، ادائیگی کی کوشش نہ کرنا، اور تاخیر سے رقم جمع کروانا اس کے دعوے کو کمزور کر سکتے ہیں۔

3۔ باہمی ذمہ داریاں اور دفعہ 51، کنٹریکٹ ایکٹ 1872

غیر منقولہ جائیداد کے معاہدے میں عموماً خریدار اور فروخت کنندہ دونوں پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

خریدار کی بنیادی ذمہ داری طے شدہ شرائط کے مطابق زرِ ثمن ادا کرنا ہے، جبکہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری معاہدے کے مطابق جائیداد منتقل کرنا اور ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔

یہ ذمہ داریاں اکثر ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں۔

کنٹریکٹ ایکٹ، 1872 کی دفعہ 51 باہمی وعدوں کی بیک وقت ادائیگی سے متعلق ہے۔ اس اصول کے مطابق، جب معاہدے میں دونوں فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے کے مقابل پوری کرنی ہوں تو ایک فریق دوسرے فریق کی متعلقہ آمادگی کے بغیر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں Mst. Samina Riffat v. Rohail Asghar (2021 SCMR 7) کا حوالہ دیا۔

اس اصول کا عملی مطلب یہ ہے کہ اگر خریدار مقررہ رقم ادا کرنے کے لیے اپنی آمادگی ثابت نہ کر سکے تو وہ محض اس بنیاد پر فروخت کنندہ کو جائیداد منتقل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا کہ معاہدہ پہلے سے موجود تھا۔

البتہ، ہر مقدمے میں معاہدے کی اصل شرائط، ذمہ داریوں کی ترتیب اور فریقین کے طرزِ عمل کا الگ جائزہ ضروری ہے۔

4۔ کیا جائیداد کے معاہدے میں وقت معاہدے کی روح ہوتا ہے؟

پاکستانی قانون میں عمومی طور پر غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کے معاہدوں میں وقت کو ہر صورت معاہدے کی روح (Time is of the Essence) نہیں سمجھا جاتا۔

تاہم، اس عمومی اصول کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدے میں مقرر کردہ تاریخ غیر اہم ہو جاتی ہے۔

اگر فریقین نے واضح طور پر طے کیا ہو کہ بقیہ رقم ایک مخصوص تاریخ تک ادا کی جائے گی، اور عدم ادائیگی کے نتائج بھی معاہدے میں درج ہوں، تو عدالت معاہدے کی زبان، حالات اور متعلقہ قانونی اصولوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گی۔

عدالت معاہدے کی شرائط کو نظر انداز کرکے فریقین کے درمیان طے شدہ ذمہ داریوں کو غیر مؤثر نہیں بنا سکتی۔

اس سلسلے میں دو اہم نظائر قابلِ ذکر ہیں:

الف۔ Fazal Ur Rehman v. Ahmed Saeed Mughal (2004 SCMR 436)

اس فیصلے کو وقت کی اہمیت اور معاہدے میں درج واضح شرائط کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر فریقین نے وقت اور عدم ادائیگی کے نتائج کو معاہدے کا لازمی حصہ بنایا ہو تو ان شرائط کی قانونی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ب۔ Muhammad Jamil v. Muhammad Arif (2021 SCMR 1108)

اس نظیر کے تناظر میں خریدار کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاہدے کی مقررہ مدت میں رقم کی ادائیگی سے متعلق اعتراض یا منسوخی کے مؤقف کا سامنا کرتے ہوئے اپنی حقیقی آمادگی اور رضامندی کے واضح شواہد پیش کرے۔

وکلاء کے لیے سبق: ہر مقدمے میں یہ فرض نہ کریں کہ غیر منقولہ جائیداد کے معاہدے میں وقت کبھی معاہدے کی روح نہیں بن سکتا۔ معاہدے کی اصل عبارت، ادائیگی کا شیڈول اور ڈیفالٹ کی شرائط لازماً پڑھیں۔

5۔ اس مقدمے میں خریدار کا دعویٰ کیوں کمزور ہوا؟

سپریم کورٹ کے سامنے پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق، خریدار کی بروقت آمادگی کے حوالے سے متعدد اہم خامیاں سامنے آئیں۔

(الف) مقررہ تاریخ تک رقم ادا کرنے کی کوشش کا فقدان

خریدار مقررہ مدت کے اندر بقیہ رقم کی ادائیگی کی مؤثر کوشش ثابت نہیں کر سکا۔ یہ امر اس سوال کو جنم دیتا تھا کہ آیا وہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے حقیقتاً تیار تھا۔

(ب) مالی استطاعت کے قابلِ اعتماد ثبوت کی عدم موجودگی

پے آرڈر، بینک دستاویزات، فنڈز کی دستیابی یا دیگر مالیاتی شواہد کے ذریعے بروقت ادائیگی کی تیاری ثابت نہیں کی گئی۔

(ج) عدالت میں تاخیر سے رقم جمع کروانا

بقیہ رقم مقدمہ دائر کرتے وقت جمع نہیں کروائی گئی، بلکہ عدالت کی ہدایت کے بعد اور معاہدے کی مقررہ آخری تاریخ گزرنے کے کافی عرصے بعد جمع کروائی گئی۔

عدالت میں بعد ازاں رقم جمع کروانا متعلقہ حالات میں ایک اہم عامل ہو سکتا ہے، لیکن یہ لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ خریدار مقررہ تاریخ پر بھی ادائیگی کے لیے تیار تھا۔

(د) دعوے کے قانونی بیان میں کمی

دعویٰ تعمیل مختص میں خریدار کی مسلسل آمادگی اور رضامندی سے متعلق واضح اور مخصوص بیان اہم ہوتا ہے۔

اس مقدمے میں ضابطۂ دیوانی کے Appendix A کے Form No. 47 کے مطابق مطلوبہ بیان کی عدم موجودگی کو بھی دعوے کی ایک کمزوری کے طور پر دیکھا گیا۔

چنانچہ وکلاء کو چاہیے کہ وہ دعویٰ تیار کرتے وقت اس امر کو یقینی بنائیں کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مدعی کی آمادگی اور رضامندی واضح طور پر بیان کی گئی ہو اور اس کی تائید میں دستیاب شواہد بھی منسلک کیے جائیں۔

6۔ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کیا غلطی تھی؟

ماتحت عدالتوں نے خریدار کی جانب سے بعد میں جمع کروائی گئی رقم کو اس کی پہلے کی عدم ادائیگی کے ازالے کے لیے کافی سمجھ لیا، لیکن مقررہ تاریخ پر خریدار کی حقیقی مالی تیاری اور عملی آمادگی کا مناسب جائزہ نہیں لیا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالتوں کو صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ رقم بالآخر جمع کروا دی گئی تھی۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ آیا خریدار متعلقہ وقت پر معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار تھا۔

عدالتی فیصلوں میں بیک وقت ہم آہنگ نتائج (Concurrent Findings) کو عموماً اہمیت دی جاتی ہے، لیکن اگر ماتحت عدالتوں نے مادی شواہد کو نظر انداز کیا ہو، ان کی غلط تشریح کی ہو یا طے شدہ قانونی اصولوں کے برخلاف فیصلہ دیا ہو تو اعلیٰ عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔

یہی اصول اس مقدمے میں بھی اہم رہا۔

7۔ سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ

سپریم کورٹ نے مقدمے کے حقائق، دستیاب شواہد اور متعلقہ قانونی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرکے منظور کر لیا اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

فراہم کردہ فیصلے کی تفصیلات کے مطابق:

  1. خریداروں کا دعویٰ تعمیل مختص خارج کر دیا گیا۔

  2. مالک کا دعویٰ منسوخی معاہدہ منظور کرکے ڈگری کر دیا گیا۔

  3. معاہدوں کے تحت ادا شدہ بیعانہ کی واپسی کے متعلق بھی حکم دیا گیا، جس کے مطابق متعلقہ وصول کنندگان 30 دن کے اندر رقم واپس کرنے کے پابند تھے۔

اس طرح سپریم کورٹ نے اس اصول کو اجاگر کیا کہ تعمیل مختص کا دعویٰ محض معاہدے کی موجودگی پر کامیاب نہیں ہوتا؛ مدعی کو اپنے قانونی استحقاق اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی آمادگی اور رضامندی ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔

نوٹ: حتمی حکم کے فریقین کے نمبر، مقدمہ نمبرز اور بیعانہ کی واپسی کی شرائط کو اصل عدالتی فیصلے سے ملا کر شائع کیا جائے۔

8۔ وکلاء کے لیے پانچ عملی نکات

تعمیل مختص کے مقدمات میں وکلاء اور قانونی مشیروں کو درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے:

1۔ معاہدے کی شرائط کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔

ادائیگی کی آخری تاریخ، اقساط، بیعانہ ضبط کرنے کی شرط اور معاہدہ منسوخ کرنے کے طریقۂ کار کو واضح طور پر سمجھیں۔

2۔ آمادگی اور رضامندی کا واضح بیان شامل کریں۔

دعویٰ میں یہ واضح کریں کہ مدعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار اور رضامند ہے، اور جہاں ضروری ہو، اس مؤقف کی تائید میں مخصوص حقائق بھی درج کریں۔

3۔ مالی استطاعت کے دستاویزی ثبوت محفوظ رکھیں۔

بینک اسٹیٹمنٹس، پے آرڈرز، ادائیگی کی پیشکش، خط و کتابت اور متعلقہ دستاویزات مقدمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

4۔ عدالتی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر سے بچیں۔

اگر بقیہ رقم ادا کرنا ضروری ہے تو بروقت ادائیگی یا عدالت میں رقم جمع کروانے کے لیے مناسب قانونی اقدامات کریں۔ بعد کی ادائیگی کو خودبخود بروقت آمادگی کا متبادل نہ سمجھیں۔

5۔ دعوے کی قانونی بنیاد مضبوط بنائیں۔

متعلقہ قانونی دفعات، معاہدے کی شرائط اور قابلِ اطلاق عدالتی نظائر کی روشنی میں دعویٰ تیار کریں۔ محض عمومی الفاظ کے بجائے واقعات اور دستاویزی ثبوت پر انحصار کریں۔

9۔ عام شہریوں کے لیے اہم قانونی مشورہ

اگر آپ کسی جائیداد کی خریداری کا معاہدہ کر رہے ہیں تو صرف زبانی وعدوں پر انحصار نہ کریں۔

  • معاہدے میں بقیہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ واضح لکھوائیں۔

  • ادائیگی کا قابلِ تصدیق ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

  • اگر فروخت کنندہ رقم لینے سے انکار کرے تو اپنے وکیل کے مشورے سے قانونی طور پر مناسب طریقۂ ادائیگی اختیار کریں۔

  • اگر مقررہ تاریخ گزر چکی ہے تو فوراً قانونی مشورہ حاصل کریں؛ یہ فرض نہ کریں کہ تاخیر کے باوجود تعمیل مختص لازماً مل جائے گی۔

  • معاہدہ منسوخی، بیعانہ ضبطی اور دعویٰ تعمیل مختص کے نتائج کا تعین معاہدے کی شرائط اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ہوگا۔

نتیجہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ فیصلہ جائیداد کی خرید و فروخت کے معاہدوں میں بروقت ادائیگی، مالی تیاری اور آمادگی و رضامندی کے ثبوت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

اس مقدمے سے حاصل ہونے والا بنیادی سبق یہ ہے کہ صرف یہ کہنا کہ میں معاہدے پر عمل کرنے کے لیے تیار تھا، کافی نہیں؛ مدعی کو اپنے مؤقف کی تائید میں قابلِ اعتماد شواہد بھی پیش کرنے چاہییں۔

البتہ ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے مخصوص حقائق، معاہدے کی شرائط اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ اس لیے اس فیصلے کو یہ عمومی اصول نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر تاخیر کی صورت میں دعویٰ تعمیل مختص لازماً خارج ہو جائے گا۔

قانونی ڈسکلیمر: یہ مضمون صرف عمومی قانونی معلومات اور تعلیمی مقاصد کے لیے ہے، اسے کسی مخصوص مقدمے کے لیے قانونی مشورہ نہ سمجھا جائے۔ عملی کارروائی سے پہلے اصل عدالتی فیصلہ، متعلقہ قانون اور معاہدے کا جائزہ کسی مستند وکیل سے ضرور کروائیں۔

اگر آپ پاکستان کے قوانین، عدالتی فیصلوں اور قانونی حقوق کے بارے میں آسان اردو میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے بلاگ Basic Pakistani Laws in Urdu کو وزٹ کرتے رہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form