Lahore High Court Acquits Accused in Narcotics Case Due to One-Day Delay in Sample Custody – Safe Custody Chain Broken (2025 LHC 7841)

Lahore High Court Acquits Accused in Narcotics Case Due to One-Day Delay in Sample Custody – Safe Custody Chain Broken (2025 LHC 7841)

Lahore High Court Acquits Accused in Narcotics Case Due to One-Day Delay in Sample Custody – Safe Custody Chain Broken (2025 LHC 7841)

منشیات مقدمات میں نمونوں کی محفوظ کسٹڈی کی زنجیر کی اہمیت: لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

محترم قارئین،

پاکستان میں منشیات کے مقدمات میں ملزم کی سزا کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے اہم عنصر نمونوں کی محفوظ کسٹڈی کی زنجیر (Chain of Safe Custody) کا ثابت ہونا ہے۔ اگر اس زنجیر میں کوئی معمولی سی خامی یا شک پیدا ہو جائے تو ملزم کو بری کر دیا جاتا ہے، کیونکہ منشیات کی بازیابی خود جرم کی بنیاد ہوتی ہے، نہ کہ محض ثبوت کی توثیق۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جسٹس فاروق حیدر صاحب نے حال ہی میں ایک اپیل (Crl. A. 68455/23 بعنوان Naseem alias Seemay Shah Vs The State etc.) میں 18 دسمبر 2025 کو فیصلہ سنایا جو 2025 LHC 7841 کے نام سے شائع ہوا۔ اس فیصلے میں ایک دن کی بلا وجہ تاخیر کو غیر محفوظ کسٹڈی قرار دیتے ہوئے ملزم کی سزا کالعدم قرار دے کر بری کر دیا گیا۔

مقدمے کے اہم حقائق

  • تفتیشی افسر ظفر حسین، سب انسپکٹر (PW-2) نے عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے 18 اکتوبر 2022 کو محرر سے نمونے کا پارسیل وصول کیا اور اسی دن پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) لاہور میں جمع کرا دیا۔
  • محرر حسنت احمد (PW-5) نے کراس ایگزامینیشن میں تسلیم کیا کہ روڈ سرٹیفکیٹ (Ex.DA) نمبر 785، 17 اکتوبر 2022 کو تیار کیا گیا تھا اور نمونہ 18 اکتوبر 2022 کو جمع کرایا گیا۔
  • روڈ سرٹیفکیٹ کا جائزہ لینے پر واضح ہوا کہ پولیس افسر کا روانگی کا وقت اور تاریخ 17 اکتوبر 2022 صبح 09:08 بجے درج ہے۔ سرٹیفکیٹ بھی 17 اکتوبر کو ہی تیار کیا گیا تھا۔

عدالت کا مشاہدہ

معزز جج صاحب نے قرار دیا کہ محرر کا یہ بیان کہ نمونہ 18 اکتوبر کو جمع کرایا گیا، روڈ سرٹیفکیٹ کے مندرجات کے بالکل خلاف ہے۔ قانونی اصول یہ ہے کہ دستاویزی شہادت کو زبانی بیان پر ترجیح دی جاتی ہے، کیونکہ دستاویز جھوٹ نہیں بول سکتی جبکہ انسان بول سکتا ہے۔

روڈ سرٹیفکیٹ کی اندراجات کو کوئی اعلیٰ قانونی دستاویز سے چیلنج نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً، نمونے کا پارسیل 17 سے 18 اکتوبر تک کس کے قبضے میں رہا، اس بارے میں شک پیدا ہو گیا۔ عدالت نے فرمایا:

"ایک دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں، اس دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے۔"

اس ایک دن کی تاخیر کی وجہ سے محفوظ کسٹڈی کی زنجیر ٹوٹ گئی، جو منشیات کے مقدمات میں ناقابل تلافی خامی ہے۔

قانونی اصولوں کا خلاصہ

عدالت نے اپنے فیصلے میں مندرجہ ذیل اصولوں کی یاد دہانی کرائی:

  1. روڈ سرٹیفکیٹ کی اندراجات کو صرف اعلیٰ قانونی دستاویز سے ہی رد کیا جا سکتا ہے، زبانی بیان سے نہیں۔
  2. نمونے اور بازیاب شدہ منشیات کی محفوظ کسٹڈی ثابت نہ ہونے کی صورت میں سزا ممکن نہیں۔
  3. اگر محفوظ کسٹڈی ثابت نہ ہو تو مقدمے کے باقی پہلوؤں پر بحث کی ضرورت نہیں، ملزم براہ راست بری ہو جاتا ہے۔

پولیس کے لیے اہم ہدایت

عدالت نے فیصلے کی کاپی فوری طور پر انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو بھجواتے ہوئے تجویز دی کہ روڈ سرٹیفکیٹ کو مناسب فارم میں تیار کیا جائے تاکہ تمام تفصیلات واضح الفاظ میں درج ہوں اور مستقبل میں ایسی خامیوں سے بچا جا سکے۔

نتیجہ

یہ فیصلہ منشیات کے مقدمات میں تفتیشی افسران، محرروں اور پراسیکیوشن کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ نمونوں کی منتقلی کے عمل میں ذرہ برابر لاپرواہی بھی ملزم کی بریت کا باعث بن سکتی ہے۔ محفوظ کسٹڈی کی زنجیر کو فول پروف بنانا ضروری ہے۔

یہ فیصلہ پاکستانی قوانین کی بنیادی روح کی عکاسی کرتا ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے۔

آپ کے تبصرے اور سوالات کا انتظار رہے گا۔

والسلام، ایڈمن https://basicpakistanilaws.blogspot.com/ تاریخ: 08 جنوری 2026

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form