In this video, we shall learn about the succession certificate and how to be got from a court in detail. Also, know the documents which are required to obtain the succession certificate and what is the whole procedure for obtaining succession certificate. If this video was helpful for you, please hit the like button and subscribe the Channel "Basic Pakistani Laws in Urdu".
ناظرین، آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) وفات پا جائے تو اس کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کو کس طرح نکالا اور تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ رواج ہے کہ جو وارث کوئی چیز ہاتھ آ جائے، وہ اسے اکیلے استعمال کر لیتا ہے اور دیگر وارثوں کو بتانا گوارا نہیں کرتا۔ اس لیے آج میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وفات کی صورت میں بینک کی رقم کو صحیح اور قانونی طریقے سے کیسے تقسیم کیا جائے تاکہ تمام وارثوں کا حق محفوظ رہے۔
اہم اقدامات:
- سب سے پہلے بینک کو اطلاع دیں: جہاں مرحوم کا اکاؤنٹ ہے، وہاں فوری طور پر فوتگی کی اطلاع دیں اور درخواست کریں کہ اکاؤنٹ کو بلاک (فریز) کر دیا جائے۔ اس سے کوئی بھی وارث اکیلے ATM کارڈ یا دیگر ذرائع سے رقم نہ نکال سکے۔ بینک عام طور پر ڈیتھ سرٹیفکیٹ دیکھ کر اکاؤنٹ فریز کر دیتا ہے۔
- سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کریں: بینک کی رقم (جو کہ movable property ہے) نکالنے اور تقسیم کرنے کے لیے سکسیشن سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ تمام قانونی وارثوں کی فہرست دیتا ہے اور ان کے شرعی حصوں کے مطابق رقم تقسیم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اب پاکستان میں NADRA سکسیشن سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے (کچھ علاقوں میں، جیسے سندھ، پنجاب وغیرہ)، جو پہلے عدالت سے ملتا تھا۔ یہ عمل اب تیز اور آسان ہے۔
سکسیشن سرٹیفکیٹ کے لیے درکار دستاویزات:
- مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ (اصل یا تصدیق شدہ کاپی)
- فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) جو NADRA سے ملتا ہے
- مرحوم کی بینک سٹیٹمنٹ یا اکاؤنٹ کی تفصیلات
- تمام وارثوں کے CNIC کی کاپیاں
- درخواست گزار کا حلف نامہ (affidavit) کہ تمام وارثوں کی درست فہرست دی جا رہی ہے
- بعض صورتوں میں ضمانت (surety bond) یا دیگر دستاویزات
اس کے بعد NADRA یا متعلقہ اتھارٹی سے درخواست دیں۔ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد تمام وارث سکسیشن سرٹیفکیٹ کی کاپی اور اپنے CNIC لے کر بینک جائیں۔ بینک شرعی حصوں کے مطابق رقم تقسیم کر کے وارثوں کو ادا کر دے گا۔
یہ طریقہ کار اپنائیں تو انشاء اللہ تمام وارثوں کا حق محفوظ رہے گا اور جھگڑے سے بچا جا سکے گا۔ شکریہ!