سپریم کورٹ آف پاکستان کا سینیارٹی کے حوالے سے اہم فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پروبیشنر افسران کی سینیارٹی کے حوالے سے ایک اہم قانونی اصول واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی پروبیشنر لازمی تربیتی پروگرام (Mandatory Training Course) کامیابی سے مکمل نہ کر سکے اور اسے دوبارہ تربیتی پروگرام میں شرکت کرنا پڑے، تو اس کی سینیارٹی اُس بیچ کے مطابق مقرر کی جائے گی جس میں وہ تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرے گا۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین اور بالخصوص سول سروس سے وابستہ افسران کے لیے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں سینیارٹی، لازمی تربیتی پروگرام اور تربیتی امتحان میں ناکامی کے قانونی اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔
کیس کے اہم حقائق
متعلقہ افسر نے 44ویں کامن ٹریننگ پروگرام (44th Common Training Programme) میں شرکت کی، تاہم وہ اس تربیتی پروگرام کو کامیابی سے مکمل نہ کر سکا۔
بعد ازاں اسے دوبارہ 45ویں کامن ٹریننگ پروگرام (45th Common Training Programme) میں شرکت کا موقع دیا گیا۔ متعلقہ افسر نے 45ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں کامیابی حاصل کی۔
تربیتی پروگرام مکمل کرنے کے بعد اس کی سینیارٹی بھی 45ویں بیچ کے افسران کے مطابق مقرر کی گئی۔
متعلقہ افسر نے اس اقدام کو چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اس نے پہلے 44ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی تھی، اس لیے اسے 44ویں بیچ کے افسران کے ساتھ سینیارٹی دی جانی چاہیے۔
یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے آیا۔
سپریم کورٹ کا اہم قانونی اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سینیارٹی کوئی بنیادی یا ناقابلِ تنسیخ حق نہیں ہے بلکہ اس کا تعین متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط کے تحت کیا جاتا ہے۔
عدالت کے مطابق اگر کوئی پروبیشنر اپنے پہلے لازمی تربیتی پروگرام میں کامیاب نہیں ہوتا اور اسے دوبارہ کسی دوسرے بیچ کے تربیتی پروگرام میں شرکت کرنا پڑتی ہے، تو بعد میں کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں وہ پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سینیارٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
دوسرے الفاظ میں، جس بیچ میں افسر لازمی تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کرتا ہے، سینیارٹی کے تعین کے لیے متعلقہ قواعد کے مطابق اسی بیچ کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
تربیتی پروگرام میں ناکامی اور سینیارٹی
سرکاری ملازمین خصوصاً پروبیشنر افسران کے لیے لازمی تربیتی پروگرام محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ سروس کے قواعد کے تحت ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔
اگر کوئی افسر مقررہ تربیتی پروگرام یا اس سے متعلق امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا تو قواعد کے تحت اس کے مختلف نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان نتائج میں بعض حالات میں سینیارٹی میں تنزلی اور متعلقہ قواعد کے تحت ملازمت سے فارغ کیے جانے کی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
اس لیے صرف پہلے تربیتی پروگرام میں شرکت کرنا کسی افسر کو اس بیچ کے ساتھ مستقل سینیارٹی کا حق نہیں دیتا، اگر وہ اس تربیتی پروگرام کو کامیابی سے مکمل نہ کر سکے۔
اضافی سروس کا عرصہ سینیارٹی کا حق نہیں
سپریم کورٹ نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی افسر نے پہلے تربیتی پروگرام میں شرکت کی ہو اور بعد میں دوبارہ تربیتی پروگرام مکمل کیا ہو، تو پہلے پروگرام میں شرکت سے لے کر دوسرے پروگرام کی کامیاب تکمیل تک گزرنے والا اضافی عرصہ اسے سابقہ بیچ میں سینیارٹی کا حق نہیں دیتا۔
یعنی سروس کی مدت اور سینیارٹی دو مختلف قانونی تصورات ہیں اور کسی مقصد کے لیے سروس کی مدت شمار ہونا لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ متعلقہ افسر کو اسی مدت کی بنیاد پر سابقہ بیچ میں سینیارٹی بھی حاصل ہو جائے گی۔
22 اکتوبر 2015 کا Office Memorandum
عدالت کے سامنے 22 اکتوبر 2015 کے Office Memorandum کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مذکورہ دفتری یادداشت متعلقہ قواعد سے ہم آہنگ تھی اور اسے غیر قانونی قرار دینے کی کوئی معقول بنیاد موجود نہیں تھی۔
تاہم عدالت نے یہ فرق بھی واضح کیا کہ پہلے تربیتی پروگرام میں شمولیت کی تاریخ سے سروس کی مدت کو تنخواہ کے تعین (Pay Fixation) کے لیے شمار کرنا، سینیارٹی کے حق کے مترادف نہیں ہے۔
اس طرح عدالت نے سروس کی مدت، تنخواہ کے تعین اور سینیارٹی کے درمیان موجود قانونی فرق کو واضح کیا۔
سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ افسر نے 45ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں کامیابی حاصل کی، اس لیے اس کی سینیارٹی کو 45ویں بیچ کے مطابق مقرر کرنا متعلقہ قواعد کے عین مطابق تھا۔
چنانچہ عدالت نے وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسر کی سروس اپیل خارج کر دی۔
اہم قانونی اصول
اس فیصلے سے درج ذیل اہم اصول سامنے آتا ہے:
"اگر کوئی پروبیشنر لازمی تربیتی پروگرام میں ناکام ہو جائے اور بعد ازاں دوبارہ تربیتی پروگرام میں کامیابی حاصل کرے، تو اس کی سینیارٹی متعلقہ قواعد کے مطابق اُس بیچ سے مقرر کی جائے گی جس میں اس نے تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کیا ہو۔"
آسان الفاظ میں
اگر کوئی سرکاری افسر اپنے پہلے کامن ٹریننگ پروگرام میں کامیاب نہیں ہوتا اور اسے اگلے بیچ کے تربیتی پروگرام میں دوبارہ شرکت کرنا پڑتی ہے، تو صرف پہلے بیچ میں شرکت کی بنیاد پر وہ پہلے بیچ کے افسران کے ساتھ سینیارٹی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ سینیارٹی کا تعین متعلقہ سروس قوانین اور قواعد کے مطابق ہوگا۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سرکاری ملازمین اور سول سرونٹس کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیارٹی کا تعین محض کسی تربیتی پروگرام میں شرکت کی تاریخ سے نہیں بلکہ متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق کیا جاتا ہے۔
اسی طرح کسی افسر کی سروس کی مدت کو کسی مخصوص مقصد، مثلاً تنخواہ کے تعین کے لیے شمار کیا جانا، لازماً سینیارٹی کے حق کو جنم نہیں دیتا۔
نوٹ: یہ مضمون عدالتی فیصلے میں بیان کردہ قانونی اصول کو آسان اردو میں سمجھانے کے مقصد سے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص سروس یا سینیارٹی کے معاملے میں متعلقہ قانون، سروس رولز، نوٹیفکیشنز اور اصل عدالتی فیصلہ ضرور دیکھا جانا چاہیے۔
سوال 1: کیا سینیارٹی سرکاری ملازم کا بنیادی حق ہے؟
سینیارٹی کا تعین متعلقہ سروس قوانین، قواعد و ضوابط اور قابلِ اطلاق پالیسی کے مطابق کیا جاتا ہے۔ محض کسی مخصوص تاریخ سے سروس شروع ہونے کی بنیاد پر ہر معاملے میں سینیارٹی کا حتمی حق پیدا نہیں ہوتا۔
سوال 2: اگر پروبیشنر Common Training Programme میں ناکام ہو جائے تو کیا ہوگا؟
اگر متعلقہ قواعد کے تحت اسے دوبارہ تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع دیا جائے اور وہ بعد کے بیچ میں کامیاب ہو، تو سینیارٹی کا تعین متعلقہ قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔
سوال 3: کیا پہلے Common Training Programme میں شرکت سینیارٹی کا حق پیدا کرتی ہے؟
صرف پہلے تربیتی پروگرام میں شرکت، جب اسے کامیابی سے مکمل نہ کیا گیا ہو، لازماً پہلے بیچ کے ساتھ سینیارٹی کا حق پیدا نہیں کرتی۔
سوال 4: کیا Pay Fixation کے لیے سروس کا عرصہ شمار ہونا سینیارٹی کا حق بھی دیتا ہے؟
ضروری نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی مقصد، مثلاً تنخواہ کے تعین کے لیے سروس کی مدت شمار ہونا، لازماً سینیارٹی کے حق کے مترادف نہیں ہے۔
سوال 5: اس کیس میں افسر کی سینیارٹی کس بیچ کے مطابق مقرر ہوئی؟
متعلقہ افسر نے 44ویں Common Training Programme میں کامیابی حاصل نہیں کی، جبکہ 45ویں Common Training Programme میں کامیاب ہوا۔ اس کی سینیارٹی 45ویں بیچ کے مطابق مقرر کی گئی۔
#BasicPakistaniLawsInUrdu #SupremeCourtPakistan #Seniority #CommonTrainingProgramme #CTP #ServiceLaw #CivilServants #PakistaniLaw #LegalUpdate #ServiceMatters