سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: محض “امانت” لکھنے سے دفعہ 406 PPC کا جرم قائم نہیں ہوتا — ضمانت کی درخواست کو Quashing of FIR میں تبدیل کر کے FIR کالعدم قرار
(2026 SCMR 1379)
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ ایف آئی آر میں صرف لفظ “امانت (Amanat)” لکھ دینے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406 کے تحت جرمِ خیانتِ امانت (Criminal Breach of Trust) ثابت نہیں ہو جاتا۔ دفعہ 406 کے اطلاق کے لیے Criminal Breach of Trust کے تمام قانونی اجزاء کا موجود ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) کی درخواست کو Petition for Quashing of FIR میں تبدیل کر کے متعلقہ ایف آئی آر کو ہی کالعدم (Quash) کر دیا۔
کیس کے حقائق
ملزم پر الزام تھا کہ اس نے شکایت کنندہ کی بطور امانت دی گئی رقم میں خردبرد کی۔ تاہم ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ فریقین کے درمیان درحقیقت مکان کو رہن (mortgage) پر دینے کا سول تنازعہ تھا۔ رقم جائیداد کے لین دین کے سلسلے میں دی گئی تھی اور نہ تو کوئی اصل امانت (entrustment) پیدا ہوئی تھی اور نہ ہی اس امانت کی ادائیگی یا واپسی کا کوئی مخصوص طریقہ طے پایا تھا۔
سپریم کورٹ کے اہم اصول
عدالت نے درج ذیل اہم قانونی اصول طے کیے:
- محض لفظ “امانت” کافی نہیں
- ایف آئی آر میں “امانت” کا لفظ لکھ دینے سے دفعہ 405/406 PPC کے تحت جرم خود بخود قائم نہیں ہو جاتا۔ Criminal Breach of Trust کے تمام ضروری اجزاء (entrustment of property + dishonest misappropriation) کا موجود ہونا لازمی ہے۔
- سول تنازعے کو مجرمانہ رنگ دینا ناجائز
جائیداد کے رہن یا معاہدے سے پیدا ہونے والا تنازعہ بنیادی طور پر سول نوعیت کا ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں سول عدالت میں ازالہ طلب کیا جانا چاہیے، نہ کہ مجرمانہ مقدمہ کھڑا کر کے دباؤ ڈالا جائے۔ - Trial Court سے پہلے 249-A Cr.P.C. کی شرط نہیں
اگر دستیاب مواد سے جرم کے ضروری اجزاء ہی پورے نہیں ہوتے اور ملزم کے سزا پانے کا کوئی معقول امکان موجود نہیں، تو اسے محض اس بنیاد پر کہ پہلے ٹرائل کورٹ سے دفعہ 249-A Cr.P.C. کے تحت بریت حاصل کرے، ہائی کورٹ میں FIR quash کرنے کی درخواست سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایسا کرنا قانون کے عمل کا بے جا استعمال (abuse of process of law) ہوگا۔ - ضمانت کی درخواست کو Quashing میں تبدیل کرنے کا اختیار
عدالت نے واضح کیا کہ اگر ریکارڈ پر کوئی مجرمانہ جرم ہی ظاہر نہیں ہوتا تو پیشگی ضمانت کی درخواست کو Quashing of FIR کی درخواست میں تبدیل کر کے براہِ راست ایف آئی آر کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔
فیصلے کی اہمیت
یہ فیصلہ ان افراد کے لیے انتہائی اہم ہے جن پر جائیداد، قرض یا کاروباری لین دین کے تنازعات کو مجرمانہ رنگ دے کر جھوٹے مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اس اصول کو مستحکم کیا ہے کہ مجرمانہ قانون کو سول تنازعات کے حل کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ جہاں جرم کے بنیادی اجزاء موجود نہ ہوں، وہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اپنے موروثی اختیارات (inherent powers) کے تحت فوری مداخلت کر سکتی ہیں۔
حوالہ: Liaqat Ali v. The State through PG Punjab and another Criminal Petition No. 10-L of 2026 (2026 SCMR 1379)