ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2025: گھریلو تشدد کے خلاف پاکستان کا نیا قانون
پوسٹ کی تاریخ: 03 فروری 2026
السلام علیکم،
میرے بلاگ "بیسک پاکستانی لاز ان اردو" پر خوش آمدید! یہ بلاگ پاکستان کے بنیادی قوانین کو سادہ اردو میں سمجھانے کے لیے ہے تاکہ عام لوگ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکیں۔ آج ہم بات کریں گے ایک نئے قانون کی، جو گھریلو تشدد (ڈومیسٹک وائلنس) کے خلاف ہے۔ یہ قانون "ڈومیسٹک وائلنس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) بل 2025" ہے، جو حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا ہے۔ یہ قانون اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) پر लागو ہوتا ہے اور اس کا مقصد خواتین، مردوں، ٹرانس جینڈر افراد، بچوں اور دیگر کمزور لوگوں کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
یہ قانون پاکستان کے آئین کے مطابق ہے، جو تمام افراد کی عزت اور حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے پیپلز پارٹی کی ایم این اے شرمیلہ فاروقی نے پیش کیا تھا، اور اسے جنوری 2026 میں جوائنٹ سیشن میں منظور کیا گیا۔ اب یہ قانون بن چکا ہے اور اس سے گھریلو تشدد کی روک تھام، متاثرین کی حفاظت اور بحالی ممکن ہو گی۔
قانون کا مقصد اور دائرہ کار
یہ ایکٹ گھریلو تعلقات میں رہنے والے افراد کو تحفظ دیتا ہے، جیسے شوہر بیوی، والدین بچے، یا مشترکہ گھر میں رہنے والے رشتہ دار۔ "متاثرہ شخص" (aggrieved person) سے مراد کوئی عورت، مرد، ٹرانس جینڈر، بچہ، معذور شخص یا بوڑھا فرد ہے جو گھریلو تشدد کا شکار ہو۔ قانون جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی تشدد کو روکنے کے لیے ہے۔
گھریلو تشدد کی اقسام اور مثالیں
قانون میں گھریلو تشدد کی واضح تعریف کی گئی ہے۔ یہاں کچھ اہم اقسام ہیں:
- جسمانی تشدد (Physical Abuse): یہ پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت آتا ہے، جیسے مار پیٹ یا زخمی کرنا۔ اس کی سزائیں PPC کے مطابق ہوں گی۔
- جذباتی اور نفسیاتی تشدد (Psychological and Verbal Abuse): یہ وہ رویہ ہے جو متاثرہ کو ذلیل یا پریشان کرے۔ مثالیں: (i) بار بار غیر ضروری حسد دکھانا جو پرائیویسی، آزادی، عزت یا سیکیورٹی پر حملہ کرے۔ (ii) گالیاں دینا یا مذاق اڑانا۔ (iii) شوہر یا گھر کے دیگر افراد کو جسمانی درد کی دھمکی دینا۔ (iv) طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا (بے بنیاد الزامات پر، جیسے بانجھ پن کا الزام)۔ (v) عورت یا گھر کے کسی فرد کے کردار پر جھوٹا الزام لگانا۔ (vi) جان بوجھ کر یا غفلت سے چھوڑ دینا۔ (vii) اسٹاکنگ (Stalking) کرنا۔ (viii) ہراساں کرنا۔ (ix) بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی اور کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا۔
- جنسی تشدد (Sexual Abuse): کوئی بھی جنسی نوعیت کا عمل جو متاثرہ کی عزت کو ٹھیس پہنچائے، ذلیل کرے یا اس کی dignity کو نقصان پہنچائے۔
- معاشی تشدد (Economic Abuse): مالی وسائل سے محروم کرنا، جیسے خرچہ نہ دینا، پراپرٹی سے روکنا یا مالی کنٹرول کرنا۔
یہ مثالیں قانون کے سیکشن سے لی گئی ہیں، جو متاثرین کو واضح تحفظ دیتی ہیں۔
سزائیں اور جرمانے
یہ قانون گھریلو تشدد کو سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ اگر جرم PPC کے تحت نہیں آتا تو:
- قید: کم سے کم 6 ماہ سے زیادہ سے زیادہ 3 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے، جرم کی شدت کے مطابق۔
- جرمانہ: Rs. 100,000 تک، جس میں سے کم سے کم Rs. 20,000 متاثرہ کو کمپنسیشن کے طور پر ملیں گے۔ جرمانہ نہ دینے پر مزید 3 ماہ قید۔
مثال کے طور پر:
- بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی پر 3 سال قید ہو سکتی ہے۔
- گالیاں دینے، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنے پر بھی جرم ہے اور سزا ہو گی۔
- بیوی کی مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کو رکھنا بھی جرم ہے۔
- بیوی کو اسٹاک کرنے پر سزا دی جائے گی۔
مدد کرنے والے یا اکسانے والے کو بھی وہی سزا ملے گی۔ پروٹیکشن آرڈر کی خلاف ورزی پر 1 سال قید اور Rs. 100,000 جرمانہ (متاثرہ کو ادا کیا جائے گا)۔ جرم بیلیبل اور کمپاؤنڈ ایبل ہے۔
شکایت کا طریقہ کار اور تحفظ
- شکایت درج کرانا: متاثرہ یا پروٹیکشن آفیسر اسے فیملی کورٹ میں دائر کر سکتا ہے۔
- سماعت: پہلی سماعت 7 دنوں میں، فیصلہ 90 دنوں میں۔
- انٹریم آرڈرز: 7 دنوں میں جاری ہو سکتے ہیں، جیسے رابطہ نہ کرنے کا حکم، فاصلہ رکھنا، گھر خالی کرنا، سیکیورٹی بانڈ یا پولیس پروٹیکشن۔
- اپیل: 30 دنوں میں سیشن کورٹ میں، فیصلہ 60 دنوں میں۔
متاثرہ کو گھر سے نہیں نکالا جا سکتا، چاہے وہ مالک نہ ہو۔ کورٹ مالی امداد، بچوں کی کفالت، طبی اخراجات اور پراپرٹی کے نقصان کی کمپنسیشن کا حکم دے سکتی ہے۔ اگر ادائیگی نہ ہو تو ملازم کی تنخواہ سے کٹوائی جا سکتی ہے۔ بچوں کی کسٹڈی گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت، اور بالغ کی اپنی مرضی سے۔
دیگر اہم باتیں
- پروٹیکشن کمیٹیز: ڈویژنل سطح پر بنیں گی، جو متاثرین کو حقوق کی معلومات، شیلٹر اور طبی مدد دیں گی۔
- پروٹیکشن آفیسرز: کاغذی کارروائی، سروس پرووائیڈرز کی معلومات اور آرڈرز کی نگرانی کریں گے۔
- سروس پرووائیڈرز: قانونی، طبی یا مالی مدد دینے والے ادارے۔
یہ قانون پاکستان کی CEDAW (خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کی کنونشن) کی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے۔ سندھ میں 2013 سے ایسا قانون ہے، اب اسلام آباد میں بھی۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یا کوئی جاننے والا گھریلو تشدد کا شکار ہے، تو فوری طور پر پولیس یا فیملی کورٹ سے رابطہ کریں۔ یہ قانون امید کی کرن ہے، لیکن اسے लागو کرنے کے لیے سب کی ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کے کوئی سوالات ہوں تو کمنٹس میں پوچھیں۔ اگلی پوسٹ تک، اللہ حافظ!