Criminal Proceedings: Rights of Guarantors in Case of Loan Fraud

Criminal Proceedings: Rights of Guarantors in Case of Loan Fraud

Criminal Proceedings Rights of Guarantors in Case of Loan Fraud

فوجداری کارروائی (Criminal Proceedings): قرض میں دھوکہ دہی کی صورت میں گارنٹرز کے حقوق

تعارف

اسلام آباد، پاکستان - اگر آپ نے کسی کو قرض دیا ہے اور وہ شخص جان بوجھ کر دھوکہ دہی کی نیت سے قرض لے کر کاروبار بند کر کے بھاگ گیا ہے، تو یہ ایک سنگین فوجداری جرم ہے۔ ایسے حالات میں، قرض دینے والے یا گارنٹرز قانونی طور پر فوجداری مقدمہ درج کروا سکتے ہیں۔ یہ بلاگ پوسٹ پاکستان کے فوجداری قوانین، خاص طور پر تعزیرات پاکستان (Pakistan Penal Code - PPC) کی دفعہ 420 اور دیگر متعلقہ دفعات پر روشنی ڈالے گی۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح یہ قوانین دھوکہ دہی اور فراڈ کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہے اور قانونی مشورے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ براہ مہربانی، کسی بھی کیس میں پیشہ ور وکیل سے رجوع کریں۔

دھوکہ دہی کی صورت حال کا جائزہ

فرض کریں کہ ایک شخص نے بینک یا ذاتی طور پر قرض حاصل کیا، لیکن شروع سے ہی اس کی نیت دھوکہ دینے کی تھی۔ وہ قرض کی رقم استعمال کر کے کاروبار چھوڑ دیتا ہے اور ملک سے بھاگ جاتا ہے۔ ایسے میں، قرض خواہ یا گارنٹرز کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تعزیرات پاکستان کے تحت، یہ عمل "دھوکہ دہی" (Cheating) یا "فراڈ" کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مقروض نے جان بوجھ کر جھوٹے وعدوں یا غلط بیانی کے ذریعے قرض حاصل کیا، تو فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ فوجداری مقدمہ صرف مالی وصولی کے لیے نہیں، بلکہ مجرم کو سزا دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ البتہ، فوجداری کیس کے ساتھ ساتھ سول کیس (جیسے قرض کی وصولی کا مقدمہ) بھی چلایا جا سکتا ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420: دھوکہ دہی اور بددیانتی

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420 دھوکہ دہی کے سنگین جرائم کو ڈھانپتی ہے۔ اس دفعہ کے مطابق:

"جو کوئی دھوکہ دے کر اور اس طرح بددیانتی سے کسی شخص کو اس کی ملکیت کسی شخص کے حوالے کرنے کی تحریک کرے، یا کسی قیمتی تحفظ کے مکمل یا جزوی طور پر بنانے، تبدیل کرنے یا تلف کرنے کی تحریک کرے، یا کوئی چیز جو دستخط شدہ یا مہر شدہ ہو اور جو قیمتی تحفظ میں تبدیل ہونے کی حیثیت رکھتی ہو، تو اسے قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد سات برس تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا۔"

یہ دفعہ دفعہ 415 سے جڑی ہوئی ہے جو "دغا" (Cheating) کی تعریف کرتی ہے۔ دفعہ 415 کے مطابق، دھوکہ دہی تب ہوتی ہے جب کوئی شخص جھوٹے بیان یا چالاکی سے دوسرے کو نقصان پہنچائے یا اسے ملکیت دینے پر مجبور کرے۔

مثال کے طور پر، اگر مقروض نے قرض لیتے وقت جھوٹے دستاویزات پیش کیے یا واپسی کا جھوٹا وعدہ کیا، تو یہ دفعہ 420 کے تحت آ سکتا ہے۔ سزا: 7 سال تک قید اور جرمانہ۔

دیگر متعلقہ دفعات

  • دفعہ 406: امانت میں خیانت (Criminal Breach of Trust): اگر قرض رضاکارانہ طور پر دیا گیا تھا، لیکن مقروض نے اسے غلط استعمال کیا، تو یہ دفعہ لاگو ہو سکتی ہے۔ یہ دفعہ 420 سے مختلف ہے کیونکہ یہاں ملکیت رضامندی سے دی جاتی ہے، لیکن بعد میں خیانت کی جاتی ہے۔ سزا: 7 سال تک قید اور جرمانہ۔
  • دفعہ 489-F: بددیانتی سے چیک جاری کرنا: اگر قرض کی واپسی کے لیے چیک دیا گیا جو باؤنس ہو جائے، تو یہ دفعہ استعمال کی جا سکتی ہے۔ سزا: 3 سال تک قید۔
  • دفعہ 468 اور 471: جعل سازی اور جعلی دستاویزات کا استعمال: اگر مقروض نے جعلی دستاویزات استعمال کیے، تو یہ دفعات شامل کی جا سکتی ہیں۔

نوٹ: دفعہ 420 اور 406 ایک ساتھ نہیں لگائے جا سکتے کیونکہ یہ دو مختلف جرائم ہیں۔ عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔

فوجداری مقدمہ کیسے درج کروائیں؟

  1. ثبوت اکٹھے کریں: قرض کے معاہدے، بینک سٹیٹمنٹس، گواہان، اور مقروض کے بھاگنے کے ثبوت (جیسے پولیس رپورٹ یا ای میلز)۔
  2. پولیس اسٹیشن جائیں: متعلقہ پولیس اسٹیشن میں FIR (First Information Report) درج کروائیں۔ اگر پولیس تعاون نہ کرے، تو مجسٹریٹ کورٹ میں درخواست دیں۔
  3. وکیل کی خدمات لیں: ایک فوجداری وکیل کیس کی تیاری، بیل کی مخالفت، اور عدالت میں پیشی کے لیے ضروری ہے۔
  4. عدالتی کارروائی: FIR کے بعد تفتیش ہوگی، چالان پیش کیا جائے گا، اور ٹرائل چلے گا۔

اگر مقروض ملک سے باہر ہے، تو انٹرپول یا FIA (Federal Investigation Agency) کے ذریعے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • قرض دیتے وقت تحریری معاہدہ کریں اور گارنٹی حاصل کریں۔
  • مشکوک کیسز میں بینک یا قانونی اداروں سے قرض دیں۔
  • دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے پس منظر چیک کریں۔

نتیجہ

دھوکہ دہی ایک سنگین جرم ہے اور تعزیرات پاکستان اس کے خلاف سخت قوانین فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ ایسے کیس کا شکار ہیں، تو فوری قانونی کارروائی کریں تاکہ مجرم کو سزا ملے اور آپ کا حق محفوظ رہے۔ یاد رکھیں، فوجداری کیس مالی وصولی کی ضمانت نہیں دیتا، اس لیے سول مقدمہ بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

داخلی روابط:

بیرونی روابط:

یہ پوسٹ 20 جنوری 2026 کو شائع کی گئی۔ تبصرے اور سوالات کا خیر مقدم ہے!

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form