پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم 2025: عدلیہ پر اثرات اور عوامی خدشات
21 دسمبر 2025
پاکستان کی سیاسی اور قانونی تاریخ میں 2025 کا سال انتہائی اہم ثابت ہوا ہے۔ حال ہی میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم نے نہ صرف فوج کی قیادت کو نئی طاقتیں دی ہیں بلکہ عدلیہ کی ساخت میں بھی بنیادی تبدیلیاں لائے ہیں۔ یہ ترمیم آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا رینک اور لائف ٹائم استثنیٰ فراہم کرتی ہے، جبکہ ایک نئی فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (FCC) کے قیام سے سپریم کورٹ کی کئی اختیارات منتقل ہو گئے ہیں۔
یہ ترمیم ملک بھر میں ٹرینڈنگ ٹاپک بن چکی ہے اور عوام، وکلاء اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ کیا یہ ترمیم جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو مضبوط کرے گی یا عدلیہ کی آزادی کو کمزور؟ آئیے اس کی تفصیلات جانتے ہیں۔
27ویں آئینی ترمیم کی اہم شقیں
- آرمی چیف کی نئی طاقتیں: ترمیم کے تحت آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کا عہدہ دیا گیا ہے، جو 5 سال کی مدت کے ساتھ ہوگا۔ اس کے علاوہ لائف ٹائم استثنیٰ سے آرمی چیف کو کسی بھی قانونی کارروائی سے تحفظ ملے گا۔
- فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کا قیام: یہ نئی عدالت بنیادی حقوق، آئینی تنازعات اور ہائی کورٹس سے اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کے کئی اختیارات اب FCC کو منتقل ہو گئے ہیں۔
- ججز کی تقرری اور منتقلی: ججز کی تقرری میں پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کی مداخلت بڑھ گئی ہے، جو عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھاتی ہے۔
یہ تبدیلیاں 26ویں ترمیم کے تسلسل میں آئی ہیں، جو پہلے ہی عدلیہ میں اصلاحات کا دعویٰ کرتی تھیں۔
عوامی اور قانونی ماہرین کے خدشات
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ چیتھم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق، یہ پاکستان کو آمریت کی طرف ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ہیومن رائٹس واچ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ ترمیم فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو مزید آسان بنائے گی۔
سپریم کورٹ کے کچھ ججز نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا، جبکہ بار کونسلز اور وکلاء تنظیموں نے احتجاج کیے۔ کیا یہ ترمیم واقعی pendency کم کرنے کے لیے ہے یا سیاسی مقاصد کے لیے؟
یہ ترمیم عوام پر کیا اثرات ڈالے گی؟
عام شہریوں کے لیے بنیادی حقوق کے کیسز اب FCC میں جائیں گے، جو نئی عدالت ہونے کی وجہ سے precedent کی پابندی نہیں کرے گی۔ اس سے پرانے حقوق دوست فیصلوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے اثرات (انٹرنل لنک)
نتیجہ
27ویں آئینی ترمیم پاکستان کی قانونی تاریخ کا ایک نیا باب ہے، لیکن یہ تنازعہ بھی جنم دے رہی ہے۔ کیا یہ ملک کو مستحکم کرے گی یا تقسیم؟ عوام کو چاہیے کہ آئین اور قانون کی بالادستی پر نظر رکھیں۔
مزید قانونی معلومات کے لیے ہمارا بلاگ فالو کریں!
کی ورڈز: 27ویں آئینی ترمیم پاکستان 2025، فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ، آرمی چیف استثنیٰ، عدلیہ آزادی پاکستان، آئینی ترامیم اثرات
حوالہ جات:
- Dawn.com: 27th Amendment Analysis
- Reuters: Imran Khan Cases
- Human Rights Watch: Pakistan 2025 Report
اگر آپ کو کوئی قانونی مشورہ درکار ہے تو کمنٹس میں پوچھیں!



