سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: زیادتی کا مقدمہ زنا بالرضا قرار، سزا 20 سال سے کم ہو کر 5 سال

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: زیادتی کا مقدمہ زنا بالرضا قرار، سزا 20 سال سے کم ہو کر 5 سال

 

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: زیادتی کا مقدمہ زنا بالرضا قرار، سزا 20 سال سے کم ہو کر 5 سال

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: زیادتی کے مقدمے کو زنا بالرضا قرار، سزا میں کمی

18 دسمبر 2025

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک حساس جنسی زیادتی (زیادتی) کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے الزام کو زیادتی سے زنا بالرضا (consensual fornication) میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ملزم کی سزا کو 20 سال قید سے کم کر کے 5 سال قید اور 10,000 روپے جرمانے تک محدود کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری قوانین، خاص طور پر پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 375 (زیادتی) اور دفعہ 496 (زنا بالرضا) کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے اور ثبوتوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

مقدمے کی تفصیلات

ایف آئی آر کے مطابق، واقعہ ایک جنگل میں صبح سویرے پیش آیا جہاں متاثرہ خاتون قدرتی حاجت کے لیے گئی تھیں اور ملزم نے مبینہ طور پر بندوق کی نوک پر زیادتی کی۔ تاہم، ایف آئی آر واقعے کے 7 ماہ بعد درج کی گئی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ:

  • متاثرہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔
  • طبی معائنے میں تشدد یا زخموں کے کوئی نشانات نہیں ملے۔
  • کپڑے پھٹے ہوئے نہیں تھے۔
  • رہائشی علاقے کے قریب ہونے کے باوجود مدد کے لیے چیخیں نہیں نکلیں۔
  • ڈی این اے سیمپلز 1.5 سال بعد لیے گئے، جو طبی تحقیق کے مطابق تاخیر کی وجہ سے ناقابل اعتماد ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے تسلیم کیا کہ جنسی عمل ہوا (متاثرہ کے بیان اور طبی ثبوتوں سے)، لیکن زبردستی کا ثبوت ناکافی تھا۔ لہٰذا، الزام زیادتی سے زنا بالرضا میں تبدیل کر دیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ اور قانونی نکات

جسٹس ملک شہزاد خان کی بنچ نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا، جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے اختلاف رائے کا اظہار کیا۔ اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ زیادتی کا کیس نہیں بلکہ زنا بالرضا کا ہے۔ زنا بالرضا کے مقدمے میں دونوں فریقین کو سزا ہو سکتی ہے، لیکن متاثرہ خاتون پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا، اس لیے انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔

اختلافی نوٹ میں جسٹس پنہور نے کہا کہ معاشرتی دباؤ، خوف اور بدنامی کی وجہ سے زیادتی کی متاثرین اکثر خاموش رہتی ہیں، اور تاخیر سے ایف آئی آر درج کروانا کیس کو کمزور نہیں کرتا۔ انہوں نے پچھلے کیسز کا حوالہ دیا جہاں تاخیر کو نظر انداز کیا گیا۔

یہ فیصلہ پاکستان میں زیادتی کے مقدمات میں ثبوتوں کے معیار پر روشنی ڈالتا ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375 کے تحت زیادتی کے لیے زبردستی کا واضح ثبوت ضروری ہے، جبکہ زنا (Hudood Ordinance) کے قوانین بھی الگ سے लागو ہوتے ہیں۔

زیادتی کے مقدمات میں قانونی چیلنجز

پاکستان میں زیادتی کے کیسز اکثر ثبوتوں کی کمی، تاخیر سے رپورٹنگ اور معاشرتی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ وکلاء اور قانونی ماہرین کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ:

  • فوری طبی معائنہ اور ثبوت جمع کرنا ضروری ہے۔
  • تاخیر سے ایف آئی آر یا سیمپلز کیس کو کمزور کر سکتے ہیں۔
  • متاثرین کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ایسے کیس کا سامنا کر رہے ہیں تو فوری طور پر پولیس اور وکیل سے رابطہ کریں۔ پاکستان کے قوانین متاثرین کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، لیکن ثبوتوں کی مضبوطی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ فیصلہ قانونی بحث کو جنم دے رہا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے کیسز پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا بلاگ فالو کریں!

(ماخوذ: جاوید چوہدری کی ویب سائٹ سے خبریں)

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form