ناظرین
آج کی اس ویڈیو میں ہم فوجداری مقدمات میں ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے بارے میں
جانیں گے۔
آج کی اس ویڈیو میں ہم فوجداری مقدمات میں ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کے بارے میں
جانیں گے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 404 Section 404 of Cr.PC
ناظرین
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 404کی رو سے
فوجداری عدالتوں کے فیصلوں یا احکامات کے
خلاف اپیل اس ضابطہ یا کسی اور قانون کی اجازت سے مشروط
صرف ان فیصلوں
یا احکامات کے خلاف دائر
کی جا سکتی ہے جہاں اپیل
کا حق ضابطہ فوجداری یا کسی اور قانون میں
موجود ہو۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 404کی رو سے
فوجداری عدالتوں کے فیصلوں یا احکامات کے
خلاف اپیل اس ضابطہ یا کسی اور قانون کی اجازت سے مشروط
صرف ان فیصلوں
یا احکامات کے خلاف دائر
کی جا سکتی ہے جہاں اپیل
کا حق ضابطہ فوجداری یا کسی اور قانون میں
موجود ہو۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 410 Section 410 of Cr.PC
ضابطہ
فوجداری
کی دفعہ 410 کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا
اختیار عدالتِ عالیہ کو حاصل ہے۔
فوجداری
کی دفعہ 410 کے تحت سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا
اختیار عدالتِ عالیہ کو حاصل ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 408 Section 408 of Cr.PC
اگر کسی
مجسٹریٹ کی عدالت نے 4 سال سے زیادہ قید کی
سزا کاحکم
دیا
ہو تواس کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 408 کے تحت اپیل
عدالتِ عالیہ میں دائر ہوگی۔
مجسٹریٹ کی عدالت نے 4 سال سے زیادہ قید کی
سزا کاحکم
دیا
ہو تواس کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 408 کے تحت اپیل
عدالتِ عالیہ میں دائر ہوگی۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 411-الف Section 411-A of Cr.PC
اسی طرح
اس ضابطہ کی دفعہ 411 الف کی رو سے سوائے ان مقدمات کے جن میں دستورکے آرٹیکل 185
کےتحت سپریم کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص جسے ہائی کورٹ نے
ابتدائی فوجداری اختیارِ سماعت کے تحت سزا سنائی ہو وہ شخص مندرجہ ذیل صورتوں میں
ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرسکتا ہے۔
اس ضابطہ کی دفعہ 411 الف کی رو سے سوائے ان مقدمات کے جن میں دستورکے آرٹیکل 185
کےتحت سپریم کورٹ کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص جسے ہائی کورٹ نے
ابتدائی فوجداری اختیارِ سماعت کے تحت سزا سنائی ہو وہ شخص مندرجہ ذیل صورتوں میں
ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرسکتا ہے۔
1۔جب
اپیل کی وجہ کوئی امر متعلقہ قانون(میٹر
آف لاء) زیرِ بحث لانا مقصود ہو۔
اپیل کی وجہ کوئی امر متعلقہ قانون(میٹر
آف لاء) زیرِ بحث لانا مقصود ہو۔
2۔ عدالتِ
عالیہ اپیل کی اجازت سے یا مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج کے اس مفہوم کے سرٹیفکیٹ
پر کہ یہ اپیل کیلئے مناسب کیس ہے۔
عالیہ اپیل کی اجازت سے یا مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج کے اس مفہوم کے سرٹیفکیٹ
پر کہ یہ اپیل کیلئے مناسب کیس ہے۔
3۔
ایسے حکمِ سزا کے خلاف جبکہ اپیل کی وجہ کوئی امر متعلقہ واقعہ (میٹر آف فیکٹ) یا
امر متعلقہ قانون و واقعہ (میٹر آف لاء
اینڈ فیکٹ) دونوں زیرِ بحث لانے مقصود ہوں
یا کسی ایسی وجہ کی بناء پر جو عدالت اپیل کو اپیل کیلئے کافی معلوم ہو۔
ایسے حکمِ سزا کے خلاف جبکہ اپیل کی وجہ کوئی امر متعلقہ واقعہ (میٹر آف فیکٹ) یا
امر متعلقہ قانون و واقعہ (میٹر آف لاء
اینڈ فیکٹ) دونوں زیرِ بحث لانے مقصود ہوں
یا کسی ایسی وجہ کی بناء پر جو عدالت اپیل کو اپیل کیلئے کافی معلوم ہو۔
4۔
عدالتِ
اپیل کی اجازت سے اس حکمِ سزا کے خلاف اپیل جو ازروئے قانون مقرر ہو۔
عدالتِ
اپیل کی اجازت سے اس حکمِ سزا کے خلاف اپیل جو ازروئے قانون مقرر ہو۔
5۔
صوبائی
حکومت کی ہدائت پر پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے ابتدائی اختیارِ سماعت کے تحت ہائی
کورٹ کے ایسے حکمِ بریت کے خلاف اپیل جس میں امرمتعلقہ واقعہ (میٹر آف فیکٹ) یا
امر متعلقہ قانون (میٹر آف لاء) سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو۔
صوبائی
حکومت کی ہدائت پر پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے ابتدائی اختیارِ سماعت کے تحت ہائی
کورٹ کے ایسے حکمِ بریت کے خلاف اپیل جس میں امرمتعلقہ واقعہ (میٹر آف فیکٹ) یا
امر متعلقہ قانون (میٹر آف لاء) سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو۔