Plea Barganing and NAB Ordinance Section 25 and Decision of Lahore High ...

Plea Barganing and NAB Ordinance Section 25 and Decision of Lahore High ...

ناظرین

سب سےپہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیب کیا
ہے پھر پلی بارگینگ کو سمجھنا آسان ہوجائےگا۔

نیب
یعنی کے قومی احتساب بیورو ایک  ایسا ادارہ
ہے جو ایک آرڈیننس کے تحت16 نومبر 1999 کو ایک صدارتی فرمان کے تحت وجود میں آیا
یعنی کے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ ادارہ بنایا۔ یہ ایک وفاقی خود مختار
سرکاری  ادارہ ہے اور بدعنوانی کی روک تھام
کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس ادارے کو قائم کرنے کا مقصد ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنا
ہے
چاہے
وہ کسی بھی سطح پر ہو رہی 
ہو۔ناظرین
میں اپنی آنے والی ویڈیوز میں آپکو لوگوں کے ساتھ نیب کے تمام سیکشنز شئیر کروں گا
انشاءاللہ۔
اب
بات کرتے ہیں 
پلی بار گینگ کی
تو ناظرین پلی بارگینگ کا 
مطلباستغاثہ
اور مُلزم کے درمیان 
سمجھوتہ
ہے 
جِس
کے مُطابق مُلزم 
 پرلگاۓ ہوۓ
الزام سے کِسی کمتر جُرم کا اعتراف کر کے رعایت کا متمنی 
ہونا۔
اس کو اب مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں بذریع نیب آرڈیننس اور کیس لاز کے حوالہ سے۔
قانونی
طور پر پلی بارگین کریمنل اور استغاثہ یعنی پراسیکیوشن کے مابین معاہدہ ہوتا ہے جس
میں کریمنل کچھ شرائط پر اپنا اقبال جرم کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے اور استغاثہ
اسکے ساتھ نرمی کرتی 
ہے۔
نیب
آرڈیننس کی دفعہ 25 کے تحت کوئی بھی شخص جس نے پیسہ لوٹا وہ رضاکارانہ طور پر نیب
کو پلی بارگین کی درخواست دے سکتا ہے اور نیب اسکی درخواست منظور کرسکتا ہے مگر
پلی بارگین کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص پہلے لوٹی ہوئی تمام دولت واپس 
کرےاور
وہ رقم وفاقی حکومت کے خزانہ میں جمع کی 
جائے
گی۔
ایک
حالیہ فیصلہ 2018وائی ایل آر کے صفحہ 383 پر لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب
ملزم پلی پارگین کرے گا تو اسے اپنا پبلک آفس بھی چھوڑنا پڑے 
گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form